نئی دہلی،25؍جولائی(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) کانگریس کے چھ ارکان کی معطلی کو لیکر لوک سبھا میں اپوزیشن نے ہنگامہ کیا۔پارلیمانی امور کے وزیر اننت کمار نے جب اس معاملے پر اپنی بات رکھی تو اپوزیشن لیڈر ملکا ارجن کھڑگے نے کہا کہ پارلیمانی امور کے وزیر آگ میں پٹرول ڈال رہے ہیں۔اس سے پہلے صدر حلف برداری کی تقریب کے چلتے لوک سبھا کی کارروائی دوپہر تین بجے تک کے لیے ملتوی کر دی گئی تھی۔دراصل پیر کو لوک سبھا اسپیکر کی جانب کاغذ کے ٹکڑے اچھالنے کی وجہ سے کانگریس کے چھ اراکین کو پانچ دن کے لیے معطل کر دیا گیا تھا۔اس کے چلتے منگل کو پارلیمنٹ کے اندر اپوزیشن نے مہاتما گاندھی کے مجسمہ کے پاس احتجاج کیا۔کہا جاتا ہے کہ پی ایم نریندر مودی اپنی حکومت اور حکومت کے کام کاج کو ہمیشہ سے سخت مانے جاتے ہیں۔کئی بار وزراء سے لے کرسرکاری افسروں کی کلاس لگاچکے ہیں۔کام کاج کے طریقے میں تبدیلی اور نئے منصوبوں کے کامیاب عمل کو لے کر ان کی طرف سے دی گئی ہدایات ہمیشہ سے خبروں سرخیاں بن جاتے ہیں۔ابھی ذرائع کے حوالے سے پھر خبرہے کہ پی ایم نریندرمودی نے اپنی ہی پارٹی کے ممبران پارلیمنٹ کی کلاس لگا دی ہے۔یعنی انہیں خبردار کیا ہے۔ذرائع کے مطابق بی جے پی پارلیمانی بورڈ کے اجلاس میں وزیر اعظم نریندر مودی نے راجیہ سبھا کے ممبران پارلیمنٹ کو اپنی پارلیمانی سرگرمیوں میں محتاط اور چوکنا رہنے کی ہدایت دی ہے۔پی ایم مودی نے راجیہ سبھا ممبران پارلیمنٹ کو خبردار کیا اور کہا کہ لنچ کے بعد ایوان میں غیرحاضر نہ ہوں۔کہا جاتا ہے کہ بہت سے رہنما میں پارلیمنٹ میں وقفے کے بعد اپنے اپنے کام سے نکل جاتے ہیں۔پی ایم مودی نے ایسے ارکان پارلیمنٹ کوخبردارکیاہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نے کہاکہ ممبران پارلیمنٹ کی غیر حاضری سے کئی اہم بلوں کو پاس کرانے میں تاخیر ہوتی ہے۔ممبران پارلیمنٹ کو اپنے رویہ میں تبدیلی لانا چاہئے تاکہ کئی کام وقت پرہوسکے۔پی ایم نریندر مودی نے اپنی بات رکھتے ہوئے کہا کہ ممبران پارلیمنٹ کی کمی سے کئی بار کام تک مکمل نہیں ہوتا۔پی ایم مودی نے واضح کیا کہ کوئی بھی بل پاس کروانا حکومت کا کام ہے۔اقتدار میں بیٹھی پارٹی کے ممبران پارلیمنٹ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے اس کام کو مکمل کریں۔اسی کے ساتھ پی ایم مودی نے صاف کر دیا کہ ممبران پارلیمنٹ کی غیر موجودگی برداشت نہیں کی جائے گی۔